اج کے بچے

 محترم والدین ۔۔ ذرا آنکھیں کھولیئے ۔۔ !! 


                   شاپنگ مال میں کھلونوں کی بڑی سی خوبصورت سجی سجائی دکان کے سامنے سے گذرتے ہوئے زمین پر ایک بچہ رو رو کے پچھاڑیں کھاتا نظر آیا۔۔معاملہ سمجھنے کے لیے ہم نے آس پاس نظر دوڑائی تو پتا چلا کہ وہاں تو کافی خلقت محو نظارہ ہے اور بات صرف اتنی سی ہے کہ سات آٹھ برس کے ان صاحبزادے کو کوئی کھلونا پسند آگیا ہے جسے خریدنے سے ماں باپ انکاری ہیں اور بس پھر بچے نے آو دیکھا نہ تاو ماں باپ سے اپنی منوانے اور انہیں بلیک میل کرنے کے لیے یہ سارا تماشا لگایا ہے ۔۔۔ اب ماں باپ کی حالت یہ تھی کہ وہ شرمندہ بھی تھے اور غصے میں بھی لیکن بچے کے آگے منمنا کر اسے رام کرنے کی کوششوں میں تھے۔۔۔ " ایسے تو بہت سارے ٹوائز گھر میں آپ کے پاس ہیں ناں بیٹا ۔۔ کیوں بلاوجہ کی ضد کر رہے ہو ۔۔ ابھی لاسٹ منتھ تو اس سے اچھے ڈھیروں گفٹس آپ کو برتھ ڈے پر ملے ہیں ۔۔ چلو اٹھو شاباش ۔۔ ہم پھر لے لیں گے " ۔۔۔۔ لیکن جناب وہ بچہ ہی کیا جو ماں باپ کی " عرضی" مان لیتا۔۔ آخر کار اس نے وہ کھلونا خریدوا کر ہی دم لیا اور پھر ہی اپنی یہ ہڑتال ختم کی ۔۔ کھلونا بغل میں دبوچے وہ جس مکارانہ اور فاتحانہ انداز میں ماں باپ کو دیکھ رہا تھا اس سے صاف پتا چل رہا تھا کہ اس نے اصل کھلونا بغل میں دبوچا ہوا نہیں ہے بلکہ ساتھ چلنے والے والدین وہ کھلونا ہیں جنہیں وہ جب چاہے جہاں چاہے بلیک میل کر کے تماشہ کھڑا کرسکتا ہے ۔۔

             ویسے تو اس طرح کے شتر بے مہار بچوں کی انگنت مثالیں ہیں مگر حالیہ شادی میں ایک اور منظر دیکھا۔۔ ویٹر ویلکم ڈرنک کی ٹرے لے کر آیا میزبان خاتون نے اپنی ایک مہماں خاتون اور انکے ساتھ بیٹھی بچی کو گلاس پیش کرنا چاہا تو مہمان خاتون بولیں ۔۔۔" ارے بھابھی اسے نہ دیجیئے پلیز ابھی تو بخار ختم ہوا ہے اس کا مگر کھانسی اب بھی بہت ہے ۔۔ " میزبان خاتون نے ویٹر کو گلاس اٹھانے کا اشارہ کیا ہی تھا کہ ترنت اس بچی نے ندیدے پن سے گلاس جھپٹا۔۔۔ " آنٹی میں پیوں گی، میں پیوں گی ۔۔ ماما تو ہر چیز سے منع کر دیتی ہیں ۔۔ اور ماما۔۔ میں آخر میں آئس کریم بھی کھاؤں گی بس۔۔۔" اور جواب میں ماما بیچاری نے شرم سے پانی پانی ہوتے ہوئے بس اتنا کہا۔۔۔ اچھا بیٹا اچھا ۔۔ !! پی لو۔۔۔ میں تو اس لیے منع کر رہی تھی کہ ابھی آپ کی میڈیسن ختم بھی نہیں ہوئی ہے۔۔۔

 

             سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج کل کے بچوں کو جتنی سہولیات اور آسائشات میسر ہیں اتنا ہی ان میں ندیدہ پن اور مذید کی ہوس بڑھ رہی ہے ۔۔۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ماں باپ کی تنبیہ یا روک ٹوک کو قطعا خاطر میں نہیں لاتے بلکہ بجائے اس کے کہ وہ چار لوگوں کے بیچ میں ماں باپ کی آنکھ کا اشارہ سمجھیں الٹا وہ جانتے بوجھتے ماں باپ کی تنبیہہ کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے انہیں بلیک میل کرنے لگتے ہیں ۔۔۔ہٹ دھرمی سے اپنی ضد یا من مرضی پوری کروا کر ہی دم لیتے ہیں ۔۔۔۔ انہیں یہ خوف بھی نہیں ہوتا کہ اس بدتمیزی پر گھر جا کر انہیں والدین کی جانب سے سخت سست سننے کو مل سکتی ہیں۔۔ کیونکہ والدین کی تو مجال ہی نہیں ہے کہ وہ انہیں کچھ کہہ سکیں ۔۔ 

              بچوں کے ان بدتمیز رویوں کی یہی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ انہیں ماں باپ کی ڈانٹ ڈپٹ یا ناراضگی کا کوئی خوف نہیں ہے ۔۔۔ کیونکہ ماں باپ بہت زیادہ cool بننے کے چکر میں اپنا کردار بھول چکے ہیں ۔۔ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ لاڈ پیار کی بھی حدود ہوتی ہیں تربیت کرنے کے لیے دل پہ جبر بھی کرنا پڑتا ہے۔۔تھوڑی سختی بھی کرنا پڑتی ہے۔۔ ۔۔ بچوں کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ اس بدتمیزی پر اگر یہاں نہیں تو گھر جا کے ان کی کلاس ضرور ہونے والی ہے ۔۔ جب یہ خوف ہوگا تبھی وہ بدتمیزیوں سے باز رہیں گے۔۔۔  نہ یہ کہ تھوڑی سی ڈانٹ کے بعد ماں باپ خود ہی گلٹ میں چلے جائیں اور الٹا وہ بچوں سے معافیاں طلب کریں ۔۔

      " سوری بیٹا ماما نے آپ کو ڈانٹ دیا۔۔

       سوری بیٹا اب کھانا کھالو۔۔ بابا آئندہ سے آپ کو کبھی ہرٹ

      نہیں کریں گے " ۔۔۔

       جب والدین خود اس طرح اولاد کے سامنے اس طرح گھگھیائیں گے تو پھر اولاد جو گل نہ کھلائے وہ کم ہے ۔۔۔

          اور والدین کے یہ بلاوجہ چمکارنے اور پچکارنے والے رویئے بھی ابھی کچھ عرصے سے مشاہدے میں آنے لگے ہیں اور نتیجتا جبھی بچے اتنے بے کہے قابو نکل رہے ہیں ۔۔ ورنہ تھوڑا پیچھے جائیں تو یہ ڈانٹ ڈپٹ تو معمولی بات ہے بلکہ غلطی پر بدتمیزی کرنے پر والدین بے دھڑک پٹائی بھی لگا دیا کرتے تھے ۔۔اور یہاں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بچوں کی تربیت میں بہ وقت ضرورت پٹائی بہت ضروری عنصر ہے  ۔۔۔ 

              تاریخ شاہد ہے کہ آج کے وہ بڑے جنہوں نے بچپن میں والدین کی سختی یا پٹائی سہی ہے وہ بڑے ہو کر زیادہ فرمانبردار اور سعادت مند اولاد ثابت ہوئے ۔۔ اب کہنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ آجکل کے بچوں کو بے دھڑک پیٹا کیوں نہیں جا رہا ۔۔ بلکہ اس مثال کو بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کے والدین ظالم نہیں تھے بلکہ وہ آج کل کے والدین سے کہیں زیادہ اپنے بچوں سے محبت رکھتے تھے اسی لیے وہ اپنے فرائض سے غافل نہیں تھے ان کے لیے اولاد کو مہذب بنانا اہم تھا ، شخصیت سازی اور کردار سازی بہت اہم تھی ۔۔


             والدین نئے ہوں یا پرانے ، دونوں ہی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں مگر بس یہ فرق یہ ہے کہ پہلے والدین کی ترجیحات بہترین تربیت ہوا کرتی تھی مگر اب والدین کی ترجیحات محض بہترین "آسائشات" کی فراہمی رہ گئی ہے ۔۔ پہلے والدین اولاد کی تربیت کے ذمہ دار ہوا کرتے تھے ۔۔ اب اولاد نے والدین کی لگامیں اپنی ہاتھوں میں تھام لی ہیں ۔۔۔تربیت کا یہ فقدان آگے چل کر کیا رنگ دکھائے گا اور اس کا کیا خمیازہ بھگتا پڑے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔۔۔ افسوس بس یہ ہے کہ تب بہت دیر ہوچکی ہوگی ۔۔۔ اس لیے محترم والدین بروقت اپنی آنکھیں کھولیے اور اولاد کو پالنے پوسنے کے ساتھ اس کی تربیت بھی کیجیئے ۔۔ کیونکہ یہ تربیت ہی ہے جو گھر اور خاندان کی پہچان کرواتی ہے ۔۔۔ 

Comments

Popular posts from this blog

بڑی انت جی صفائی

Blood test

Need man