تخم جوز ماثل ۱۰ گرام، عقرقرحا ۱۰ گرام، تخم پیاز ۱۰ گرام، اجوائن خراسانی ۱۰ گرام، گندھک آملہ سار ۴۰ گرام، کشتہ شنگرف اشرف کمپنی ۵ گرام، سفوف کرلیں، ۵۰۰ ملی گرام والا کیپسول۔
فارما انڈسٹری ۶۰۰ بلین ڈالر سالانہ کماتی ہے۔ جتنے ہم بیمار رہیں، اتنے وہ صحت مند ہوتے ہیں۔ تو وہ ایسا کیونکر چاہیں گے کہ ہم ٹھیک ہوں؟ یہی وجہ ہے کہ سال ہا سال کولیسٹرول، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور متعدد بیماریوں کی دوائیاں لے لے کے بھی کوئی ٹھیک نہیں ہو پاتا۔ اب تک ہم سنتے آئے ہیں مائنڈ باڈی کینکیشن۔ منفی سوچیں، اینگزائٹی، ڈیپریشن کیسے بالآخر کیسے بیماریوں کی صورت جسم پر اثرات ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ اسے دوسرے زاویے سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک انسان سالانہ ساٹھ پاؤنڈ شوگر استعمال کرتا ہے، دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتا ہے اور باقاعدہ ورزش نہیں کرتا، گھنٹوں کے حساب سے سکرین سے جڑا رہتا ہے چاہے کام کے سلسلے میں، چاہے تفریح کے نام پر۔ نتیجتا نیند پوری نہیں ہوتی، اٹینشن ڈیفیسٹ یعنی ارتکاز کی کمی، کام مکمل نہ ہو پانا، اینگزائٹی اور ڈیپریشن۔۔۔ گویا جسمانی صحت کا خیال نہ رکھنا ذہنی صحت پر اثر ڈالتا ہے، لیکن ہم اس بات کو ٹھیک سے سمجھ نہ پائے۔ کیوں نہ شوگر کم بہت کم کر کے ختم کر دی جائے، دن کا کچھ حصہ واک یا ورزش کے لئے مختص کیا جائے، سکرین کا استعمال کم کرنے کی شعوری کوشش کی جائے، بھرپو...
ہر انسان کی پیدائش کے ساتھ ایک "جِن" بھی پیدا ہوتا ہے- یہ ہماری روح کے ساتھ بڑھتا پھلتا پھولتا ہے- اسے ہمزاد کہتے ہیں- یہ جن ہم سب پہ سوار ہے مگر ظاہر کم ہی ہوتا ہے- "شیزوفیرینیا" البتہ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں یہ جِن کھل کے سامنے آتا ہے- انسان کی زبان ، لہجے اور جسمانی حرکات پہ غالب ہو جاتا ہے- ایک فریق کی صورت آپ سے مکالمہ کرتا ہے- ہمزاد کے بگاڑ یعنی شیزوفیرینیا کی وجہ سے ہی عاملوں کا رزق چلتا ہے- ماہرینِ نفسیات کے نزدیک شیزوفیرینیا ڈپریشن کی وہ اسٹیج ہے جو انسانی جزبات و احساسات اور رویے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے- وہ اپنے حال سے گم ایک نئی شخصیت بن جاتا ہے جو اس کی زبان لہجے اور جسمانی حرکات سے ظاہر ہوتی ہے- آٹزم مختلف نفسیاتی عوارض کا مجموعہ ہے اور شیزوفیرینیا بھی اس میں شامل ہے- یہی وجہ ہے کہ اس معذوری کے حامل لوگوں کی عمر کا بہترین حصّہ پیروں فقیروں اور عاملین کی جھاڑ پھونک میں گزر جاتا ہے مگر جِن پھر بھی قابو نہیں آتا- اس جِن کو نکالنا ناممکن ہے کیونکہ یہ انسانی تخلیق کا حصّہ ہے- ہاں اس سے مذکرات کر کے بہت سے مسائل جز وقتی طور پہ ضرور حل کیے جا سکتے ہیں-...
Comments
Post a Comment